Online News Portal

حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارقادری بانی دعوت اسلامی

0 66

تحریر محمد الیاس نوناری
حضرت علامہ مولانامحمد الیاس عطار قادری نے تحریک دعوت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری 26 رمضان 1369ھ بمطابق 1950ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئے۔آپ کی کنیت "ابوبلال”اور تخلص "عطار” ہے۔ مولانامحمد الیاس عطار قادری کو کئی سلاسل طریقت میں بیعت کی اجازت حاصل ہے، لیکن صرف سلسلۂ قادریہ میں بیعت کرتے ہیں۔ آپ کے مریدین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ جو اپنے نام کے ساتھ عطاری لکھتے ہیں۔حضرت علامہ مولانامحمد الیاس عطار قادری کی قائم کردہ تنظیم دعوت اسلامی اس وقت تک 200 سے زائد ممالک میں اپنے قافلے روانہ کر چکی ہے۔ دعوت اسلامی سو سے زائد شعبوں میں تقسیم ہے، اس کے تحت دنیاوی تعلیم کے ادارے دارالمدینہ کی پاکستان و بیرون پاکستان میں قائم شاخوں کی تعداد 40 سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اور دینی تعلیم کے ادارے مدرسۃ المدینہ کی 500 سے زیادہ۔ الیاس قادری نے اپنی تحریک کے لیے فیضان سنت کے نام سے ایک ضخیم کتاب مرتب کی ہے، جس کی نئی اشاعت دو جلدوں پر مشتمل ہے اس کتاب کے کئی زبانوں میں ترجمے کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں، عورتوں اور نوجوان نسل کے لیے سو سے زیادہ چھوٹے بڑے رسائل لکھ چکے ہیں۔ جن کو دعوت اسلامی کا ادارہ مکتبۃ المدینہ 35 زبانوں میں شائع کر رہا ہے۔ مولانامحمدالیاس عطار قادری اپنے سبز عمامہ کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ جو دعوت اسلامی کی علامت بن چکا ہے۔مولانا محمد الیاس عطار قادری کا دیا ہوا نعرہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے، ان شاء اللہ عزوجل مدنی مقصد کہلاتا ہے۔مولانا محمدالیاس عطارقادری جدید ذرائع ابلاغ سے تبلیغ اسلام میں یقین رکھتے ہیں، اردو میں اولین اسلامی ویب سائٹ 1996ء میں جاری کی اور اپنے پریس لگائے جہاں سے قرآن مقدس سمیت تنظیمی و اسلامی کتابوں کو شائع کرنا شروع کیا، 2008ء میں اپنا ٹی وی مدنی چینل کے نام سے شروع کیا۔ حال ہی میں فیضان مدینہ کے نام سے اردو و ہندی زبان میں ماہ وار رسالہ شائع کرنا شروع کیا ہے۔ مولانا محمدالیاس عطارقادری احتجاج، ہڑتال اور سیاست سے دور رہتے ہیں۔

آبا و اجداد
آپ کے آبا و اجداد بھارت تقسیم ہند سے پہلے جوناگڑھ کتیانہ میں مقیم تھے۔ آپ کا تعلق کتیانہ میمن برادری سے ہے۔ پاکستان بننے کے بعد آپ کے والدین ہجرت کر کے پاکستان کے شہر حیدر آباد پھر کراچی منتقل ہو گئے۔ آپ کے والد کا نام حاجی عبد الرحمان علیہ رحمتہ اللہ الکریم اورداداکا نام عبدالرحیم علیہ رحمتہ اللہ الکریم تھا جو ایک نیک اور پارسا انسان تھے۔ آپ کے والد نے سری لنکا کی حنفی میمن مسجد کی بہت سال تک خدمت کی وہاں اس وقت لوگوں نے قصیدۂ غوثیہ پڑتے ہوئے آپ کی کرامت بھی دیکھی۔ مولانا الیاس عطار قادری کے والد 1370ھ میں ادائیگی حج کے دوران میں بیماری کی وجہ سے وفات پا گئے۔ اس وقت مولانا کی عمر صرف ایک سال تھی۔ آپ کے بڑے بھائی اور والدہ بالترتیب 1396ھ اور 1398ھ میں وفات پا گئے۔

ابتدائی تعلیم


آپ نے علم دین کسی مدرسے میں باقاعدہ حاصل نہیں کیا بلکہ مفتی اعظم پاکستان علامہ مفتی وقارالدین کی خدمت میں 22 سال مسلسل جاتے رہے۔ مفتی مرحوم سے کتنا علم حاصل کیا اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا کہ علامہ الیاس عطار قادری پوری دنیا میں ان کے واحد خلیفہ ہیں۔ 1981ء میں جب علما کرام اہلسنت کی دینی اصلاحی تنظیم بنانے کے لیے تگ و دو کر رہے تھے۔ اس وقت بھی مفتی وقارالدین نے آپ کا نام اس کام کے لیے پیش کیا، کیونکہ حضرت مولانامحمدالیاس عطار قادری پہلے سے ہی خود ہی اس طرز پر کام کر رہے تھے۔

بیعت
امام احمد رضا خان سے بے حد عقیدت کی بنا پر مولانا الیاس قادری کو آپ کے سلسلے میں داخل ہونے کا شوق پیدا ہوا۔

دعوت اسلامی کا قیام
1401ھ میں اسلامی اصلاحی تحریک دعوت اسلامی قائم کی۔ یہ آپ کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ مختصر سے عرصے میں دعوتِ اسلامی کا پیغام دنیا کے 200 ممالک میں پہنچ چکا ہے اور لاکھوں عاشقانِ رسول نیکی کی دعوت کو عام کرنے میں مصروف ہیں۔ مختلف ممالک میں کُفار بھی مُبلِّغینِ دعوت ِ اسلامی کے ہاتھوں مُشرف بہ اسلام ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کی جہدِ مسلسل نے لاکھوں مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کر دیا جس کی بدولت وہ فرائض و واجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ سر پر سبز عمامے اور چہرے پر سنت کے مطابق داڑھی بھی سجا لیتے ہیں۔

تبلیغی زندگی
قیام دعوت اسلامی کے قیام سے لے کر آج تک مولانا محمدالیاس عطار قادری اسلام کی تبلیغ میں مشغول ہیں، شروع شروع میں خود دور دراز شہروں کا تبلیغی سفر کرتے رہے ہیں۔ آہستہ آہستہ نوجوان نسل آپ کی طرف متوجہ ہوئی اور تعداد بڑھنے لگی، 1990 کے لگ بھگ اپنی درسی کتاب فیضان سنت شائع کی، اس کے بعد کراچی میں فیضان مدینہ کے نام سے دعوت اسلامی کا مرکز قائم کیا جس میں مسجد، مدرسہ اور رہاہشی کمرے بنائے گئے ہیں۔ تعداد بڑھنے کی وجہ سے مولانا محمدالیاس عطار قادری صاحب خود تنظیم کی تربیت کی طرف توجہ دینے لگے، اس دوران میں ان پر دو بار قاتلانہ حملہ ہوا، جس کی وجہ سے اب خود تبلیغ کے لیے پاکستان کے اندر سفر نہیں کرتے۔

کتب و رسائل
اب تک 120 رسائل، چند کتب اور فیضان سنت جو تقریباً 3300 صفحات پر شائع ہو چکی ہے، جب کے آپ کی کتب کو دنیا کی 35 زبانوں میں ترجمہ کیا جا رہا ہے۔

اولاد
آپ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے، بڑا بیٹا عبید رضا ہے جس کو عالم دین بنایا ہے، چھوٹا بیٹا جس کا نام محمد بلال ہے اس کی آواز میں بہت سوز ہے، وہ آج کل حمد، نعت اور مناقب صحابہ و اولیاء کرام میں مشغول ہے اور بہت زیادہ سنا جا رہا ہے۔ جبکہ بیٹی کا نام آمنہ ہے۔ دونوں بیٹے شادی شدہ ہیں جن کی شادی کی انتہائی سادہ تقریب براہ راست مدنی چینل پر بھی نشر کی گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.