Online News Portal

’’امریکی فوج کو ’قاتل روبوٹ‘ ضرور بنانے چاہئیں،‘‘ سرکاری پینل کی رپورٹ

0 58

واشنگٹن(عوامی درشن)امریکی کانگریس کے ماتحت ’’نیشنل سیکیورٹی کمیشن آن آرٹی فیشل انٹیلی جنس‘‘ نے اپنی تازہ رپورٹ میں زور دے کر کہا ہے کہ امریکی فوج کو عسکری مقاصد کےلیے ’’قاتل روبوٹ‘‘ ضرور بنانے چاہئیں۔اپنے اصرار کی وجہ بیان کرتے ہوئے اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ جب تک ایسا کوئی ’’خودکار، سرگرم و متحرک، مشینی عسکری نظام نہیں بنایا جائے گا، تب تک ہمیں اس کی خوبیوں اور خاموں کو سمجھنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔‘‘اسی بنیاد پر کمیشن نے امریکی فوج سے ’’پرزور اصرار‘‘ کیا ہے کہ وہ اس نوعیت کے نظام کی تیاری اور عملی آزمائش پر سنجیدگی سے کام کو آگے بڑھائے۔واضح رہے کہ یہ تفصیلی رپورٹ امریکی سلامتی کے حوالے سے مصنوعی ذہانت کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے جن میں صنعت، تجارت، پیداوار اور طب وغیرہ کے ساتھ ساتھ عسکری شعبہ بھی شامل ہے۔رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں ترقی کےلیے امریکی حکومت کو سالانہ 32 ارب ڈالر خرچ کرنے چاہئیں اور اس ضمن میں عسکری شعبے کو خصوصی اہمیت دی جائے کیونکہ ’’چین اور روس پہلے ہی اس میدان میں خاصی سرمایہ کاری کررہے ہیں۔‘‘خبر رساں ایجنسی ’’رائٹرز‘‘ نے اس حوالے سے اپنی خبر میں ’’مصنوعی ذہانت سے لیس ہتھیاروں/ عسکری نظاموں‘‘ کی عبارت استعمال کی ہے جو اپنے آپ میں وسیع البنیاد تصور ہے۔مصنوعی ذہانت سے لیس ہتھیاروں/ عسکری نظاموں میں خودکار بمبار اور لڑاکا طیاروں کے علاوہ خودکار جنگی بحری جہازوں، آبدوزوں، میزائلوں اور گاڑیوں سمیت، ایسا تمام فوجی ساز و سامان شامل ہے جسے اپنا کام کرنے کےلیے انسانی ہدایات یا انسانی مداخلت کی کوئی ضرورت نہ ہو۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.