Online News Portal

 محکمہ زراعت پنجاب نے نومبر کے دوسرے پندھرواڑے میں چنے کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کیلئے سفارشات جاری کر دیں

0 187

ملتان ( ایگریکلچرل رپورٹر) ترجمان محکمہ زراعت کے مطابق کاشتکار چنے کی کاشت جلد از جلد مکمل کر لیں اور جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ گوڈی کریں یا محکمہ زراعت پنجاب کے مشورہ سے جڑی بوٹی کش زہر کا استعمال کریں۔ یاد رکھیں اگر کسی وجہ سے اُگاؤ تسلی بخش نہ ہو تو فصل دوبارہ کاشت کریں۔ چنے کے ساتھ تیلدار اجناس کی کاشت بھی کی جا سکتی ہے۔ چنے کی فصل کو پانی کی ضرورت کم ہوتی ہے۔ آبپاش علاقوں میں بارش نہ ہونے کی صورت میں خصوصاً پھول آنے پر اگر فصل میں سوکھا محسوس ہو تو ہلکاپانی لگا دیں۔ کابلی چنے کیلئے پہلا پانی بوائی کے 60 تا 70 دن بعد اور دوسرا پھول آنے پر دیں۔ دھان کے بعد کاشتہ فصل کو آبپاشی کی ضرورت محسوس نہیں پڑتی۔ ستمبر کاشتہ کماد میں مخلوط کاشتہ چنے کی فصل کو کماد کی ضرورت کے مطابق آبپاشی دیں۔ اگیتی کاشتہ، کثرت کھاد یا بارش وغیرہ کی وجہ سے اگر فصل کا قد بڑھنے لگے تو مناسب حد تک پانی کا سوکا لگائیں یا کاشت کے بعد دو ماہ بعد شاخ تراشی کریں۔ فصل کا معائنہ کرتے رہیں اور اگر فصل پر دیمک، ٹوکے یا چور کیڑے کا حملہ نظر آئے تو محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی عملے کے مشورہ سے مناسب زہروں کا استعمال کریں۔ فصل پر امریکن سنڈی حملہ آور نظر آئے تو کاشتکار اس کے تدارک کا فوری انتظام کریں۔ چنے کی فصل میں اگر جڑی بوٹیاں کم ہوں تو جڑی بوٹی مار زہروں کی بجائے گوڈی کو ترجیح دیں۔ پہلی گوڈی فصل اُگنے کے 30 تا 40 دن کے بعد اور دوسری گوڈی پہلی گوڈی کے ایک ماہ بعد کریں۔ ریتلے علاقوں میں جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ روٹری آسانی سے ہو جاتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.