Online News Portal

اصل اور پاک خون کی چمک

0 163

کالمکار : جاوید صدیقی

ایک کہاوت مشہور ہے کہ اصل سے خطا نہیں ، کم اصل سے وفا نہیں یہ کہاوت درحقیقت تربیت اور خاندان کی پہچان کی جانب کرتی ہے، دنیا ازل سے رحمان کے بندے ہمیشہ رحمان کی بندگی میں اہنے وجود کو اس قدر منسلک رکھتے ہیں کہ رحمان کے ہر حکم کی تعمیل اور صراط المستقیم پر قائم رہنے کی کوشش میں لگےرہتے ہیں، ہر فتن، ہر تکلیف، ہر اذیت، ہر مشکل ہر صبر کرتے ہوئےباری تعالی سے ہی طلب کرتے ہیں، امت محمدی وہ خوشنصیب امت ہیکہ جس کو اللہ نے اپنے محبوب ترین پیغمبر خاتم النبین و مرسلین رحمت اللعالمین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو بھیج کر اس امت پر احسان عظیم کیا کیونکہ آپ ﷺ کے صدقےاس امت کو تمام امت پرافضلیت بخشی، روحانیت کی معراج ہو یا انسانی کمال سب کے سب رحمان نے اپنے محبوب کے صدقے اس امت کو انعمت علیھم یعنی انعام میں عطا کیا، رحمان اپنے محبوب ﷺ کی امت میں ایسے بندے چنتا ہے جو انسانی خدمات پر مامور کردیئے جاتے ہیں جن کی خدمات حصول رضائےالہی اورعشق رسول ﷺپر محیط ہوتی ہےیہی بندے رحمان کے انعامات کےمستحق ہوتےہیں، بیشک اللہ کے ذکر اورخدمت خلق سے ہی دلوں کو اطمینان ملتاہے۔معزز قارئین!! خلیفہ عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ اسکی نظر ایک نوجوان پر پڑی جسکا چہرہ بہت پُروقار تھا مگر وہ لباس سے مسکین لگ رہا تھا۔ خلیفہ عبدالملک نے پوچھا یہ نوجوان کون ہے تو اسے بتایا گیا اس نوجوان کانام سالم ہےاور یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا پوتا ہےخلیفہ عبدالملک کو دھچکا لگا اور اُس نے اِس نوجوان کو بلا بھیجاخلیفہ عبدالملک نے پوچھا کہ بیٹامیں تمہارے دادا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بڑا مداح ہوں مجھے تمہاری یہ حالت دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ہے۔ مجھے خوشی ہوگی اگر میں تمھارے کچھ کام آ سکوں۔تم اپنی ضرورت بیان کرو جو مانگو گے تمہیں دیا جائیگا- نوجوان نےجواب دیا، اے امیر المومنین! میں اسوقت اللہ کے گھر بیتُ اللّٰہ میں ہوں اور مجھے شرم آتی ہے کہ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر کسی اور سے کچھ مانگوں۔خلیفہ عبدالملک نے اسکے پُر متانت چہرے پر نظر دوڑائی اور خاموش ہوگیا،خلیفہ نے اپنے غلام سے کہا یہ نوجوان جیسے ہی عبادت سے فارغ ہوکر بیتُ اللّٰہ سے باہر آئے، اسے میرے پاس لیکر آنا- سالم بن عبداللہؓ بن عمرؓ جیسے ہی فارغ ہوکر حرمِ کعبہ سے باہر نکلے تو غلام نے اُن سے کہا امیر المؤمنین نے آپکو یاد کیا ہے۔سالم بن عبداللہؓ خلیفہ کے پاس پہنچے۔ خلیفہ عبدالملک نےکہا، نوجوان! اب تو تم بیتُ اللّٰہ میں نہیں ہو، اب اپنی حاجت بیان کرو۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں تمہاری کچھ مدد کروں۔ سالم بن عبداللہؓ نےکہا، اے امیر المؤمنین! آپ میری کونسی ضرورت پوری کرسکتے ہیں، دنیاوی یا آخرت کی؟ امیر المؤمنین نےجواب دیا کہ میری دسترس میں تودنیاوی مال و متاع ہی ہے۔ سالم بن عبداللہؓ نے جواب دیا- امیر المؤمنین! دنیا تو میں نے کبھی اللّٰہ سے بھی نہیں مانگی جو اس دنیا کا مالکِ کُل ہے۔ آپ سے کیا مانگوں گا۔ میری ضرورت اور پریشانی تو صرف آخرت کے حوالے سے ہے۔ اگراس سلسلے میں آپ میری کچھ مدد کر سکتے ہیں تو میں بیان کرتا ہوں۔خلیفہ حیران و ششدر ہوکر رہ گیا اور کہنے لگا کہ نوجوان یہ تُو نہیں، تیرا خون بول رہا ہے۔ خلیفہ عبدالملک کو حیران اور ششدر چھوڑ کر سالم بن عبداللہؓ علیہ رحمہ وہاں سے نکلے اور حرم سے ملحقہ گلی میں داخل ہوئے اور نظروں سے اوجھل ہوگئے۔
یوں ایک نوجوان حاکمِ وقت کو آخرت کی تیاری کا بہت اچھا سبق دے گیا۔۔۔۔۔معزز قارئین!! موجودہ دور میں انسانی ضروریات مختلف ضرور ہوچکی ہیں مگر نیکی اور نیک امور کا طریقہ وہی ہے اور رحمان کی جانب سے انعامات و اکرام کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔۔۔ معزز قارئین یاد رکھیں جو مسلمان رحمان کے بندے اس گھمنڈ میں ہوجاتے ہیں کہ انکی دولت کی ریل پیل، ملازمین کی بڑی تعداد، کاروبار کا پھیلاؤ، عزت و وقار سب کچھ انکی محنت، لگن، عقلمندی، ذہانت، دانش مندی گویا یہ سب کچھ انھوں نے ہی کیا ہے اسی لیئے نہ کسی کا خوف ہے اور نہ ہی کسی کا ڈر۔۔۔ کوئی اگر ان سے ، انکے کاروبار اور اداروں سے اگر مخلص رہا تو ان کے مطابق یہ ان ملازمین کی سوچ اور عقل کا دخل تھا انہیں انکی مخلصانہ رویئے سے کیا مطلب بس ان مالکان کے مطابق یہ سب میری کامیابی ہے۔ان کا کہا ہے کہ میں جسے چاہوں اپنے ادارے سے دخل کرلوں اور جسے چاہوں رکھوں گویامیں اپنے کاروبار کا مالک و خالق میں ہی ہوں نعوذباللہ۔۔۔۔معزز قارئین!! اس طرح کے ذہن رکھنے والے ہمارے کاروباری حلقوں میں اضافہ ہوتا دیکھنے میں زیادہ نظر آرہا ہے اسی سبب ڈاؤن سائزنگ کے نام پر اپنے مخلص سچے ایماندار ملازمین کا معاشی قتل کیا اور انکی بیس بیس سال کی محنت کو کوڑےدان کی نظر کردیا پھر کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں رحمان کے بندے اور محبوب خدا ﷺ کے عاشق ہیں، یاد رکھیں حضرت سالم وہ شخصیت تھی جنہیں اللہ نے اپنے پسندیدہ بندوں میں شامل کیا تھا وہ چاہتے تو بیشمار دولت انکے قدموں میں ڈھیر ہوتی، تاریخ اسلام نے ہمیں مسلمان کی شان اور امرا اشرفیہ کی اعلی با کردار زندگی سے بھی روشناس کیا ہے، کیا آج کے ہمارے امراء اشرفیہ نے اس بابت غور کیا یا سنجیدگی سے سوچا؟؟؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.