Online News Portal

بھارت سے کپاس درآمدات ، ایسی تنظیم نےمخالفت کردی کہ حکومت کےلئےنئی مشکل کھڑی ہو جائے

0 66

کراچی(عوامی درشن)پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن(پی سی جی اے)نےبھارت سے کپاس کی درآمدات کی شدید مخالفت کرتےہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے مقامی کاشتکاروں کی اس فصل کو کاشت کرنے کے حوالے سےحوصلہ شکنی ہو گی، کاشت کار، جنرز،سپنرز اور سوتی بروکرز اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری کے باوجود حکومت کی جانب سے بھارت سے کپاس کی درآمدات کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔پی سی جی اے کے چیئرمین ڈاکٹر جیسو مل نے کہا کہ اگر ہندوستانی کپاس کی درآمدات کی اجازت دی گئی تو کاشتکار اس سیزن میں کپاس کی کاشت نہیں کریں گے، کپاس کی کاشت سندھ میں شروع ہوچکی اور جلد ہی پنجاب میں شروع ہونے والی ہے،کپاس کے بیج، ناقص کیڑے مار ادویات اور کھادوں کی زیادہ لاگت کےبارے میں کوئی تحقیق نہ کرنےکی وجہ سےسیزن کےدوران کپاس کی پیداوار نومن فی ایکڑ کے ساتھ صرف 55 لاکھ گانٹھوں کی ہوئی ہے جو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں ایک تہائی ہے،جب ایک کروڑ 48 لاکھ گانٹھوں کی پیداوار کی گئی تھی۔جیسو مل نے کہا کہ حالیہ پیداوار میں فی ایکڑ لگ بھگ 16 من کی کمی ہوئی اور اس میں مزید تیزی سے کمی ہورہی ہے کیونکہ حکومت نے اس انتہائی اہم فصل کو بڑی حد تک نظرانداز کیا ہے جس نے برآمدات کی 60 فیصد سے زیادہ رقم کمانے میں مدد کی تھی۔کپاس کی پیداواری لاگت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں یہ 20 ہزار فی ایکڑ (پاکستانی روپے میں)ہے جبکہ پاکستان میں فی ایکڑ لاگت 50 ہزار روپے ہے، مزید برآں اگر کپاس کی قیمت کم ترین مقررہ قیمت سے بھی نیچے آ جائے تو ہندوستانی حکومت کپاس خرید لیتی ہے۔ڈاکٹرجیسو مل نے کپاس کے لیے گندم اور گنے کی خطوط پر کم سے کم قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی حکومت اپنےسٹاک سے کپاس کی پیش کش کررہی ہے، یہ کاشتکاروں یا جنرز کے ہاتھ میں نہیں ہے، ہمیں حکومت کی حمایت حاصل نہیں کیونکہ 85 فیصد کسانوں کے پاس صرف 12 ایکڑ اراضی ہے، اسلام آباد میں چھوٹے کاشتکاروں کے پاس تحفظ حاصل کرنے کی کوئی لابی نہیں ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.