Online News Portal

علامہ مولانا الشاہ احمد نورانی کی مزھبی اور سیاسی خصوصیات

0 157

: . . . . . . . تحریر محمد الیاس نوناری : . . . . عالم دین مبلغ اسلام اور سیاسی رھنما مولانا شاہ احمد نورانی 31 مارچ 1926 کو میرٹھ (یو پی) میں پیداھوے ان کے والد علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی اعلی حضرت شاہ احمد رضا خان بریلوی کے خلیفہ مجاز تھے شاہ احمد نورانی نے حفظ قرآن اور درس نظامی کی تکمیل کے بعد نیشنل عربک کالج میرٹھ سے گریجویشن کیا اور الہ آباد یونیورسٹی سے فاضل عربی کی ڈگری حاصل کی علامہ شاہ عبد العلیم صدیقی اپنے وقت کے عظیم مبلغ تھے ان کی وفات کے بعد یہ فریضہ شاہ احمد نورانی نے سنبھال لیا ۔ مولانا شاہ احمد نورانی کی عوامی و سیاسی زندگی باقاعدگی سے 1970ء میں شروع ہوئی۔ اس لحاظ سے 4 اپریل 1970ء سے لے کر 11دسمبر 2003ء تک 33 سال بنتے ہیں لیکن جسٹس منیر کی رپورٹ کے مطابق 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں بھی آپ کا نمایاں کردار ہے۔ مولانا نورانی رحمۃ اللہ علیہ 1949ء میں پاکستان آئے اور 1970ء سے پہلے بھی جزوی طور پر سیاست میں حصہ لیتے رہے۔

ایوب مرحوم کے دور میں ان کا نقطہ نظر ایوب خان کے خلاف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مفتی محمد حسین نعیمی مرحوم کی طرف سے جمعیت علماء پاکستان کی تنظیم نو سنی علماء کے ایوب مخالف دھڑوں کا جامعہ نعیمیہ میں اجتماع غالباً 1968ء میں ہوا۔ اس میں بھی مولانا عبدالغفور ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کو جمعیت کا صدر بنانے کے لئے مولانا شاہ احمدنورانی کراچی سے لاہور تشریف لائے۔ مولانا عبدالحامد بدایونی کے ساتھ روس کا دورہ اور افریقی ممالک میں جمعیت کی طرف سے مختلف اجتماعات کا انعقاد بھی ان کی سیاسی سرگرمیاں ہی شمار ہوں گی۔ میں نے ان ایام کو سات سال تصور کرکے حضر ت کی کل چالیس سالہ زندگی شمار کی ہے۔ اس چالیس سالہ دور میں انہوں نے اپنی علمی‘ سیاسی‘ ذہنی‘ فکری اور دینی سرگرمیوں کے لئے دن رات کو ایک کردیا۔

4 اپریل 1970ء کو امام شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ کی سیاسی خصوصیت یہ دیکھنے میں آئی کہ اس وقت جمعیت علماء پاکستان 6 دھڑوں میں بٹی ہوئی تھی۔ تمام دھڑوں کے قائدین ایک دوسرے کی قیادت ماننے کو تیار نہ تھے۔ ان سب طبقات کو اس وقت کے سب سے بڑے عالم دین مفتی اعظم پاکستان علامہ سید ابوالبرکات نے ایک جگہ جمع تو کردیا تھا مگر آپ کی پیر عمری‘ نقاہت اورخاموش طبعی صدارت کی متحمل نہ تھی۔ آپ کے حکم پر شارح بخاری علامہ سید محمود احمد رضوی نے مجمع میں موجود خوش پوش‘ ہشاش بشاش، نورانی رنگت اور نورانی قدوقامت کے عالم دین مولانا شاہ احمد نورانی کو صدارت کی دعوت دی۔ پورے ہاؤس نے اس دعوت کی تائید کی۔ میرے نزدیک امام نورانی کی یہ پہلی سیاسی خصوصیت تھی جنہیں اختلاف کی باد سموم میں یکجہتی کی بادنسیم کا جھونکا قرار دیا گیا۔ چنانچہ مولانا نورانی نے اس جذبات اختلاف تضاد غم و غصے سے بھرے ہوئے اجلاس کو اپنی دانائی‘ حالات پر گرفت‘ انسانی نفسیات پر مکمل مہارت کے باعث یہ اجلاس نہ صرف یخ بستہ ہوا بلکہ مکمل اتحاد کی شکل میں ڈھل گیا۔

جمعیت علماء پاکستان کے تمام گروپوں کے قائدین نے استعفیٰ دیا اور مجلس عمل جمعیت علماء پاکستان کے نام سے سنی اتحاد قائم ہوا۔ اس کے کنونیئر علامہ سید محمود احمد رضوی قرار پائے اور اسی اجلاس میں امام الشاہ احمدنورانی کی قیادت میں چھ رکنی منشور ساز کمیٹی قائم ہوئی اس کے ارکان یہ تھے۔
مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی
علامہ سید محمود احمد رضوی
مولانا محمد حسن حقانی
مولانا غلام علی اوکاڑوی
مولانا محمد بنجش مسلم بی اے
مولانا غلام مہر علی

اس کمیٹی نے چار دن کی قلیل مدت میں جمعیت علماء پاکستان کا منشور تیار کیا۔ اس وقت سیاسی جماعتوں میں منشور بھاری بھر کم ابھر رہے تھے۔ دینی جماعتوں میں جماعت نفاذ اسلام کے سلسلہ میں کوئی مشترکہ منشوری اصطلاح متعارف نہ ہوسکی۔ مثلاً جماعت اسلامی نفاذ اسلام کی اصطلاح استعمال کرتی تھی۔ جمعیت علماء پاکستان نفاذ شریعت کہتی تھی۔ مگر امام شاہ احمد نورانی نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمعیت علماء پاکستان کا منشور اجمالی طور پر دو نکات پر مبنی دیا۔ یعنی

-1- مقام مصطفی ﷺ کا تحفظ
-2- نظام مصطفی ﷺ کا نفاذ

یوں نظام مصطفی ﷺ کی اصطلاح نفاذ اسلام کے سلسلہ میں پہلی مرتبہ متعارف ہوئی۔ 1977ء کے انتخابات اور ان کے بعد بھٹو کے خلاف تحریک میں پوری قوم نظام مصطفیﷺ کی اصطلاح پر متفق ہوگئی اور بھٹو کے خلاف تحریک کا نام ہی تحریک نظام مصطفیﷺ متعارف ہوا۔ چنانچہ اس کے بعد جتنے بھی دینی و سیاسی اتحاد قائم ہوئے نظام مصطفی کی اصطلاح کو ان میں بالادستی حاصل رہی۔ مثلاً ملی یکجہتی کونسل مختلف دینی مکاتب فکر کی غیر انتخابی اور غیر سیاسی اتحادی جماعت تھی۔ اس کے صدر بھی مولانا ہی تھے۔ اس کی بنیاد اسی اصطلاح نظام مصطفیﷺ پر ہی رکھی گئی۔ نوازشریف کے خلاف جونیجو مرحوم کی قیادت میں سہ جماعتی سیاسی اتحاد قائم ہوا جس میں مسلم لیگ جونیجو‘ جمعیت علماء پاکستان اور ائیرمارشل اصغر خان کی تحریک استقلال شامل تھیں۔ یہ اتحاد بھی ا نتخابی اور سیاسی تھا لیکن اس کی بنیاد بھی فقہ حنفی کی صورت میں نفاذ نظام مصطفےٰﷺ تھا۔

جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان کا دو رکنی انتخابی اتحاد اسلامی جمہوری محاذ قائم ہوا۔ مولانا شاہ احمدنورانی اس کے صدر اور مولانا فضل الرحمن جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ بارہ بارہ رکنی دونوں جماعتوں میں سے چوبیس رکنی مجلس شوریٰ قائم ہوئی۔ میں اس کا رکن تھا۔ اس منشورکا اولین اور بنیادی نقطہ نظام مصطفی قرار پایا۔ متحدہ مجلس عمل قائم ہوئی تو امام نورانی اس کے تازیست صدر رہے۔ اس کی بنیاد میں آج بھی نظام مصطفی لکھا ہوا ہے۔ گویا امام شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ کی سیاسی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے سب کا رخ مدینہ کی طرف موڑدیا تھا۔

مولانا نورانی کی تیسری سیاسی خصوصیت آئین سازی تھی۔ بھٹو نے آئین سازی کے لئے اپنے وزیر قانون میاں محمود علی قصوری کی سرکردگی میں پچیس (25) رکنی آئین ساز کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی میں ظاہر بات ہے اکثریت پیپلز پارٹی کی تھی۔ اپوزیشن ارکان اسمبلی میں امام شاہ احمد نورانی بھی تھے۔ اس وقت قائد حزب اختلاف سردار شوکت حیات تھے۔ پیپلز پارٹی نے آئین ساز کمیٹی میں آئین کا جو مسودہ پیش کیا اس میں پاکستان کانام سوشلسٹ ڈیمو کریٹک ری پبلک پاکستان تجویز کیا گیا تھا۔ حزب اختلاف کی طرف سے حضرت قائد اہلسنّت نے اس کو مسترد کردیا اور پاکستان کا نام اسلامک ری پبلک ڈیموکریٹک پاکستان تجویزکیا مگر اپوزیشن کی بات آئین ساز کمیٹی نے تسلیم نہ کی۔ مسودہ اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کو اسمبلی میں 2/3 اکثریت حاصل تھی۔ لیکن امام نورانی نے اسمبلی میں تاریخی تقریر فرماتے ہوئے کہا کہ۔

’’یہ آئین جو خوبصورت فریم میں سجا کر ہمارے سامنے پیش کر دیا گیا ہے اس کو کسی قیمت پر قبول نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پاکستان کی بنیاد اسلام ہے‘ سوشلزم نہیں ہے۔ ہم اس آئین کو منظور نہیں ہونے دیں گے۔ اگریہ آئین منظور کر لیا گیا تو ہم اس کو پھاڑ کر اسمبلی کے باہر چلے جائیں گے اور اس کے خلاف بھرپور جدوجہد کریں گے‘‘۔

آپ کے اس تقریر کے بعد اسمبلی کے حالات بدل گئے اور بالآخر حکومت کو اپنی اکثریت کے باوجود اپنا آئین تبدیل کرنا پڑا اور امام نورانی کا دیا ہوا آئین منظور ہوا۔ آج 1977ء کا آئین ہماری بقا‘ سلامتی اور ترقی و خوشحالی کا ضامن ہے۔ اس کی منظوری میں قائد اہلسنّت رحمۃ اللہ علیہ کا خصوصی کردار ہے۔

 مولانا شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ کی سیاسی زندگی ایک تہائی صدی پر محیط ہے۔ وہ پہلی بار 1970ء میں جمعیت علماء پاکستان کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ مولانا 1973ء کے دستور کی تدوین کے موقع پر دستوری کمیٹی کے رکن بنائے گئے اور اس حیثیت سے ملک کے اس متفقہ دستور کی تشکیل میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اس دستور کو اسلامی بنانے کے لئے مولانا نے دو سو ترامیم پیش کیں۔ انہی دنوں مولانا شاہ احمد نورانی پاکستان کے سیاسی افق پر آفتاب بن کر ابھرے اور ان کی سیاسی فہم و بصیرت کا ملک میں ہر سیاسی مکتب فکر کی طرف سے اعتراف کیا گیا کیونکہ مولانا کی سیاسی سوچ اور فکر کا محور نظریہ پاکستان اور حضرت قائدا عظم کے سیاسی تصورات و فرمودات تھے۔ انہوں نے اپنے قول و فعل سے ثابت کیا کہ وہ نظریہ پاکستان کی روشنی میں حضرت قائد اعظم کے فرمودات کے مطابق ملک میں اسلامی جمہوری نظام کے نفاذ کے لئے کوشاں ہیں۔ انہی کی مساعی سے 1973ء کے آئین میں پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دینے کی کوشش کامیاب ہوئی۔ مولانا شاہ احمد نورانی جمہوری اقدار کی سربلندی کے لئے ذوالفقار علی بھٹوکی بلامقابلہ وزیر اعظم بننے کی خواہش کے راستے میں دیوار بن کر کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے حزب اختلاف کے فیصلے کے مطابق بھٹو کے مقابلے میں وزارت اعظمیٰ کا الیکشن لڑا۔ اگرچہ انہیں صرف 32 ووٹ ملے مگر ان کی جرات و بہادری کی ملک بھر میں داد دی گئی کہ انہوں نے اس وقت بھٹو کا مقابلہ کیا۔ جب کوئی دوسرا اس کے لئے تیار نہ تھا۔ پھر 30 جون 1974ء کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں قادیانیوں کو خارج از اسلام قرار دینے کی قرارداد پیش کرنے کاشرف بھی مولانا ہی کو حاصل ہوا۔

 امام شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے کسی حکمران کو ملاقات کرنے کی درخواست نہیں کی اور زندگی بھر حکمرانوں سے ملنے کی کبھی خواہش پیدا نہ ہوئی۔ جب بھی حکمرانوں سے ملے ان کی دعوت پر ملے اور ایجنڈے پر گفتگو کی۔ بلکہ ایک دفعہ ضیاء الحق نے دعوت دی۔ ملاقات ہوئی بعد میں صدر مملکت نے کھانے کا کہا تو قائد اہلسنّت نے فرمایا کہ جنرل صاحب آپ نے ملاقات کی دعوت دی تھی کھانے کی دعوت نہیں دی تھی۔ ہم آپ کا کھانا نہیں کھا سکتے۔ قائد اہلسنّت کی یہ خصوصیت بھی عمر بھر رہی کہ انہوں نے کبھی کسی حکمران سے ون ٹو ون ملاقات نہ کی۔ حکمرانوں سے جب بھی ملاقات ہوئی اپنے وفد کے ساتھ ہوئی ورنہ سیاست میں ون ٹو ون ملاقاتیں بھی سیاست کا حصہ ہوتی ہیں لیکن اس امر میں قائد اہلسنّت نے اپنی انفرادیت قائم کی۔ حضرت قائد اہلسنّت کی یہ بھی خصوصیت رہی کہ انہوں نے عمر بھر اقتدار طلب نہ کیا بلکہ وہ ہمیشہ اپنی ذات کی بجائے نظام مصطفےٰﷺ کو اقتدار میں لانے کی جدوجہد کرتے رہے۔ اس کا مظاہرہ کئی مرتبہ ہوا۔

جس وقت کراچی میں ورلڈ اسلامک مشن کا دفتر کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن کے مقابل یونی ٹاورمیں تھا۔ اس وقت اتفاق سے میں بھی کراچی گیا ہوا تھا۔ حضرت دفتر تشریف لائے تو ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ لائن پر ایم کیو ایم کے الطاف حسین تھے۔ انہوں نے ملاقات کی درخواست کی‘ آپ نے اجازت دی کہ تشریف لے آئیں۔ تھوڑی دیر کے بعد الطاف حسین بھاری بھر کم وفدکے ساتھ ورلڈ اسلامک مشن کے دفتر میں وارد ہوگئے۔ رسمی علیک سلیک کے بعد الطاف حسین نے پیش کش کی کہ ایم کیو ایم، جمعیت علماء پاکستان کے مقابلے میں قومی اسمبلی کی آٹھ اور صوبائی اسمبلی کی بارہ سیٹوں کے مقابلہ میں کوئی امیدوار کھڑا نہیں کرے گی۔ آپ صرف اتنی مہربانی فرمائیں کہ ایم کیو ایم کی مخالفت نہ کریں۔ یہ ایک سیاستدان کے لئے بہت بڑی آفر ہے لیکن حضرت نے فوری جواب ارشاد فرمایا کہ الطاف بھائی آپ کی تشریف آوری کا شکریہ۔ آپ کی پیش کش کا بھی شکریہ مگر جمعیت علماء پاکستان کا کسی علاقائی یا لسانی پروگرام پر مشتمل سیاسی پروگرام نہیں ہے۔ اس کا پیغام صرف اور صرف نظام مصطفےﷺٰ ہے۔ ہم تمام کی تمام سیٹیں بلا مقابلہ آپ کو دیتے ہیں آپ صرف اردو قومیت کی بجائے اسلامی قومیت کو اپنا منشور بنائیں۔ کیونکہ جمعیت کے نزدیک اردو کی کوئی خاص حیثیت نہیں ہے۔ افغانستان‘ ایران اور دوسرے ممالک میں جو مسلمان زبانیں بولتے ہیں وہ بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی اردو ہے۔ اردو کی بنا پر کوئی بھائی بھائی نہیں بن سکتا۔ دیکھیے نہرو بھی اردو بولتا تھا میں ا ور آپ بھی اردو بولتے ہیں۔ تو کیا نہرو ہمارا بھائی بن سکتا ہے؟ قومیت صرف اسلام پر ہوتی ہے۔ آپ کا پروگرام چونکہ اس سے مختلف ہے‘ آپ اس میں تبدیلی کردیں ہم غیر مشروط آپ سے تعاون کریں گے۔ جواب میں الطاف حسین نے اردو قومیت چھوڑنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ہم جماعت اسلامی کو شکست دینا چاہتے ہیں۔ چونکہ اس زمانہ میں جماعت اسلامی اور جمعیت علماء پاکستان کے اختلافات بہت شدید تھے۔ الطاف حسین نے نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے جماعت اسلامی سے مقابلے کی بات کی۔ جواب میں قائداہلسنّت نے فرمایا کہ پہلے ہم قومیت کافیصلہ کرلیں اس کے بعد ہم جماعت اسلامی کے بارے میں فیصلہ کرلیں گے مگر الطاف حسین نے یہ تسلیم نہ کیا تو حضرت نے بھی صاف صاف فرما دیا کہ الطاف بھائی نتیجہ ہمیں معلوم ہے اس کے باوجود آپ کی لسانی قومیت کا مقابلہ کیا جائے گا اور آپ سے مصالحت نہیں کی جاسکتی۔ حضرت کی یہ جرأت ان کی ایمانی قوت اور سیاسی خصوصیت ہے۔

حضرت کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ انہوں نے عمل صالح کو سیاست کا زیور بنادیا تھا۔ عمر بھر ان کی نماز باجماعت قضا نہ ہوئی۔ بے وضو سفربھی نہ کیا۔ رمضان پاک میں تراویح کا کبھی ناغہ نہیں کیا اور تراویح اور شبینوں میں 64 سال مسلسل قرآن پاک سنایا اور پھر قرآن پاک سنانے میں ان کی خصوصیت یہ تھی کہ عمر بھر کسی مسجد سے قرآن پاک سنانے کا نذرانہ وصول نہ کیا۔

امام نورانی کی یہ خصوصیت سب سے نمایاں ہے کہ انہوں نے پیسے کو دھکیلا‘ دولت کو مسترد کیا مگر دولت ان کے پیچھے بھاگتی تھی۔ عمر بھر ان پر پیسے کا کبھی کوئی الزام نہ لگا۔ اسی طرح امام نورانی جب دنیا سے تشریف لے گئے ان کے کسی دشمن نے بھی ان پر کوئی الزام لگانے کی جرات نہ کی۔ ورنہ سیاست میں الزام کس پر نہیں لگتا؟ ہمارے سامنے اکابرین سیاست الزامات کے استعمار کے نیچے دبے رہے۔ مگریہ حقیقت ہے کہ امام الشاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ پر کسی کی پیالی چائے، پھوٹی کوڑی اور مالی معاونت کا کوئی الزام آج تک وجود میں نہیں آیا۔ یوں یہ بھی خصوصیت قائد اہلسنّت کی ہے کہ وہ خداکے فضل اور نگاہ مصطفیﷺ کے طفیل تمام الزامات سے شفاف دامن لے کر دنیا سے چل دیئے۔

امام الشاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ کی مصروفیات‘ سفر کی کثرت‘ متحرک ذات کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ انہوں نے عمر بھر اپنی گاڑی نہیں خریدی بلکہ مجھے سلطان القلم علامہ ارشد القادری نے یہ دلچسپ واقعہ سنایا کہ میں حضرت کے ساتھ ماریشس میں تھا۔ ایک نوجوان بلکل نئی گاڑی لے کر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور چابی پیش کی۔ حضرت نے پوچھا یہ کیا‘ عرض کی کہ حضور آپ سنی قوم کے قائد ہیں۔ قومی اسمبلی کے رکن ہیں آپ کے پاس گاڑی نہیں ہے۔ میں یہ گاڑی کا نذرانہ لے کر حاضر ہوا ہوں۔ بلکل نئی گاڑی ہے۔ قبول فرمائیں۔ علامہ ارشد القادری کے بقول حضرت نے اس سے فرمایا کہ آپ مجھے گاڑی یہاں دے رہے ہیں میں اس کو پاکستان کیسے پہنچاؤں گا؟ اس نے عرض کیا کہ پاکستان میں پہنچا دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا میں پٹرول کہاں سے ڈلواؤں گا؟ اس نے عرض کیا میں اس کا انتظام بھی کردیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا میں ڈرائیور کہاں سے رکھوں گا؟ اس نے عرض کیا اس کی تنخواہ بھی میں دوں گا۔ آپ نے فرمایا میرے گھر کے ساتھ کوئی گیراج نہیں ہے میں گاڑی کھڑی کہاں کروں گا؟ اس نے عرض کیا میں گیراج بھی لے دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا نہیں میاں جب گاڑی میرے گھر میں ہوگی تومیرے بچے بھی اس کو استعمال کریں گے اور آپ دے رہے ہیں جمعیت کی محبت سے یہ امانت میں خیانت ہے۔ اس طرح آپ نے مفت کی گاڑی کو قبول نہ فرمایا اور زندگی بھر دوستوں کی گاڑیوں یا ٹیکسیوں پر سفر فرمایا۔ آپ کی وفات دسمبر2003 بروز جمرات کو 78 سال کی عمر میں پائی اور ہمیشہ کے لیے زندہ جاوید ہو گیے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.