Online News Portal

زمین کی ہمواری کیلئے استعمال ہونیوالے سرکاری بلڈوزرز کی بکنگ کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ ثاقب علی عطیل

0 241

ملتان (خالد شہزاد) سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہا ہے کہ زمین کی ہمواری کیلئے استعمال ہونے والے سرکاری بلڈوزرز کی بکنگ کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ بکنگ کیلئے وضع کردہ آن لائن طریقہ کار پر من و عن عملدرآمد کیا جائے اور میرٹ پر کاشتکاروں کو بلاامتیاز سروس فراہم کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایگریکلچر سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں شعبہ زرعی انجینئرنگ کی کارکردگی کے سلسلہ میں منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر احمد یار خان، میاں اسد اللہ، محمد حسین آزاد، نوید عصمت کاہلوں و دیگر موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوہ سلیمان کے پسماندہ علاقوں میں ذرائع آمدورفت کی سہولیات مہیا کرنے کیلئے جیپ ایبل ٹریکس کی تکمیل جلد از جلدکی جائے۔ لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجہ میں جیپ ایبل ٹریکس کی رکاوٹوں جیسے مسائل کے حل کیلئے قابل عمل اور مستقل حل پر مبنی تجاویز مرتب کرکے پیش کی جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زرعی انجینئرنگ ورکشاپ سے محکمہ زراعت کے دیگر شعبوں کی گاڑیوں اور مشینری کی مرمت کیلئے بلامعاوضہ خدمات مہیا کی جائیں۔ سیم زدہ علاقوں میں مچھلی کے تالابوں کی تعمیر کیلئے بلڈوزروں کی فراہمی جاری رکھی جائے۔ نئے بلڈوزروں کی بروقت خریداری یقینی بنانے کیلئے ٹینڈرنگ کیلئے درکار کوائف جلد از جلد مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زرعی ٹیوب ویلز کے انرجی آڈٹ کیلئے مقرر کردہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے تاکہ کاشتکاروں کو ٹیوب ویل چلانے کے دوران بجلی اور ڈیزل وغیرہ کی بچت ہو۔ انہوں نے مزید ہدایت کہ رزسٹیوٹی میٹر کے فوائد بارے کاشتکاروں کو رہنمائی فراہم کی جائے اور رزسٹیوٹی میٹر کے سروے کے بغیر سرکاری طور پر نئی بورنگ نہ کی جائے بلکہ پرائیویٹ بور کرنے والی کمپنیوں کو بھی پابند کیا جائے کہ وہ رزسٹیوٹی میٹر سروے رپورٹ کے بعد کاشتکار کے فارم پر آبپاشی کیلئے بورنگ کریں۔ تمام بلڈوزرز کی جیو ٹیگنگ اور مانیٹرنگ کے سلسلہ میں جاری کی گئی ایس او پیز پر عملدرآمد کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کہ فیلڈ میں کام کرنے والے بلڈوزرز کی سالانہ بنیادوں پر مکمل انسپکشن کے بعد فٹنس سرٹیفکیٹس مہیا کرنے کا میکانزم بنایا جائے۔ تمام بلڈوزرز پر ٹریکرز کی تنصیب یقینی بنائی جائے۔ اس موقع پر بریفنگ کے دوران سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب کو بتایا گیا کہ شعبہ زرعی انجینئرنگ نے اپنے قیام سے اب تک جنوبی پنجاب میں 6 لاکھ 85ہزار ایکڑ بنجر زمین آباد کیا گیا۔ پانی کی کیفیت معلوم کرنے کیلئے 10ہزار 304 ای آر ایم سروے کیے گئے۔ 49ہزار 500 ٹیوب ویلوں کیلئے بور کیے گئے۔ 8ہزار 134 ٹیوب ویلز کا انرجی آڈٹ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایمرجنسی کی صورت میں سیلاب کے دنوں میں 51ہزار گھنٹے جبکہ پہاڑی علاقوں پر 70ہزار 430 گھنٹے بلڈوزرز نے کام کیا۔ 1ہزار 72 مچھلی کے تالاب بنائے گئے اور 71ہزار 156 گھنٹے نہروں کی بھل صفائی کیلئے بلڈوزرز نے کام کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.